جمعہ 11 ستمبر 2026 - 15:39
نیکیوں کو ریا سے محفوظ رکھیں اور بچوں کی تعلیم و تربیت پر توجہ دیں: مولانا سید احمد علی عابدی 

حوزہ/ ممبئی میں خطبۂ جمعہ کے دوران حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید احمد علی عابدی نے ائمۂ معصومینؑ کی تعلیمات کی روشنی میں انسان کی حقیقی قدر و منزلت، خدمتِ خلق اور نیکیوں کو ریاکاری سے محفوظ رکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اچھی صحبت اور مخلصانہ تنقید کو کردار سازی کا ذریعہ قرار دیا اور مساجد و امام بارگاہوں کو نئی نسل کی تعلیم و تربیت کے لیے مؤثر طور پر استعمال کرنے کی ضرورت پر تاکید کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ممبئی/ 11 ستمبر 2026: خوجہ شیعہ اثنا عشری جامع مسجد پالا گلی میں نماز جمعہ حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید احمد علی عابدی کی اقتدا میں ادا کی گئی۔ خطبۂ جمعہ میں انہوں نے ائمۂ معصومین علیہم السلام کی نورانی تعلیمات کی روشنی میں انسان کی حقیقی قدر و منزلت، خدمتِ خلق، نیکیوں کو ریاکاری سے محفوظ رکھنے، اچھی صحبت اختیار کرنے اور بچوں کی تعلیم و تربیت کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

مولانا سید احمد علی عابدی نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی اپنے فرزند حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کے لئے وصیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ائمۂ معصومین علیہم السلام کے کلمات نور ہیں اور انسان کی ہدایت کے لئے بہترین چراغ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان تعلیمات پر عمل کرنے والا دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کرسکتا ہے۔

انہوں نے انسان کی حقیقی قدر و قیمت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محض کھانا، پینا، سونا اور اولاد پیدا کرنا انسان کو حیوان سے ممتاز نہیں کرتا، کیونکہ یہ تمام کام حیوانات بھی انجام دیتے ہیں۔ انسان کی اصل شناخت اس کی فکر، عادات، اخلاق، کردار اور دوسروں کے ساتھ اس کے تعلقات سے ہوتی ہے۔ اگر انسان اپنے پڑوسی کی بھوک، اس کے بچوں کی تعلیم یا اس کی ضروریات سے بے خبر رہے تو اسے اپنے انسانی کردار کا جائزہ لینا چاہیے۔

مولانا سید احمد علی عابدی نے خدمتِ خلق کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ کسی غریب کی مدد کرنا، کسی بیمار کا علاج کرانا، کسی ضرورت مند کے گھر کا انتظام کرنا یا کسی بچے کی تعلیمی فیس ادا کرنا عظیم نیکی ہے۔ تاہم نیکی کرنے کے ساتھ اسے محفوظ رکھنا بھی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیکی کرنا آسان ہے، لیکن نیکی کو محفوظ رکھنا مشکل ہے۔ انسان اگر کسی ضرورت مند کی خاموشی سے مدد کرے اور بعد میں لوگوں کے سامنے اس کا تذکرہ کرکے احسان جتائے تو اس نیکی کا اجر متاثر ہوسکتا ہے۔ انہوں نے سمجھانے کے لئے مثال دی کہ اگر قیمتی گھی سے بھرے ہوئے برتن میں معمولی سا سوراخ ہوجائے تو رفتہ رفتہ پورا گھی ضائع ہوجاتا ہے؛ اسی طرح ریاکاری، احسان جتانے اور اپنی نیکیوں کا تذکرہ کرنے سے انسان کے اعمال کا ذخیرہ ضائع ہوسکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ انسان کو ایسے نیک کام اس انداز سے انجام دینے چاہئیں کہ حتی الامکان اس میں دکھاوا شامل نہ ہو۔ اگر کسی کی مدد کرنے کے بعد وہ شخص سلام یا احترام نہ بھی کرے تب بھی اپنے احسان کا تذکرہ نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ نیکی کا مقصد اللہ کی رضا ہے، لوگوں سے تعریف یا بدلہ حاصل کرنا نہیں۔

خطبۂ جمعہ میں اچھی صحبت کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔ مولانا سید احمد علی عابدی نے کہا کہ انسان کو نیک اور صالح افراد کی صحبت اختیار کرنی چاہیے، کیونکہ صحبت کا انسان کے کردار اور عادات پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ کسی شخص کی شخصیت کو سمجھنے کے لئے اس کے دوستوں اور قریبی ساتھیوں کو بھی دیکھنا چاہیے۔

انہوں نے چاپلوسی سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ انسان کو ایسے لوگوں کو اپنے گرد جمع نہیں کرنا چاہیے جو ہر بات میں اس کی تعریف کریں، بلکہ ایسے مخلص افراد کی ضرورت ہے جو اس کی غلطی کو غلطی اور اچھائی کو اچھائی بتائیں۔ مخلصانہ تنقید انسان کی اصلاح اور شخصیت سازی کا ذریعہ بنتی ہے۔

مولانا سید احمد علی عابدی نے تنقید کی اہمیت بیان کرتے ہوئے ہیرے، قیمتی پتھر اور چاندی کی مثال دی اور کہا کہ جس طرح ہیرے کو تراشنے اور چاندی کو آگ اور ہتھوڑی کے مرحلے سے گزارنے کے بعد اس کی قدر و قیمت بڑھتی ہے، اسی طرح مخلصانہ تنقید اور اصلاحی مشورے انسان کی شخصیت کو نکھارتے اور اس کے مقام کو بلند کرتے ہیں۔ اس لیے اچھی اور مخلصانہ تنقید سے ناراض ہونے کے بجائے اسے اپنی اصلاح کا ذریعہ سمجھنا چاہیے۔

خطبے کے دوسرے حصے میں مولانا سید احمد علی عابدی نے بچوں کی تعلیم و تربیت اور مذہبی مراکز کے مؤثر استعمال پر خصوصی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں بہت سے خاندان چھوٹے گھروں میں رہتے ہیں جہاں بچوں کے لئے مناسب تعلیمی ماحول میسر نہیں ہوتا۔ اس لیے مساجد، امام بارگاہوں اور دیگر مذہبی مراکز کو صرف مخصوص ایام کی مجالس تک محدود رکھنے کے بجائے سال بھر تعلیمی و تربیتی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے تجویز پیش کی کہ ان مذہبی مراکز میں بچوں اور بچیوں کی تعلیم کے لیے مناسب اوقات مقرر کیے جائیں اور علاقے کے تعلیم یافتہ افراد بچوں کی تعلیم و تربیت اور نگرانی میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ امام حسین علیہ السلام کی عزاداری یقیناً ثواب کا کام ہے، لیکن عزاداروں کے بچوں کی تعلیم، تربیت اور ان کے روشن مستقبل کے لیے کوشش کرنا بھی عظیم خدمت ہے۔

مولانا سید احمد علی عابدی نے بزرگوں اور اہلِ علاقہ سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری طور پر چائے کی دکانوں یا دیگر مقامات پر بیٹھ کر عالمی سیاست پر طویل تبصروں میں وقت ضائع کرنے کے بجائے اپنی قوم اور نئی نسل کے مستقبل کے لیے وقت نکالیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق بچوں کی تعلیم میں حصہ لے سکتا ہے؛ کوئی تعلیم دے سکتا ہے، کوئی وسائل فراہم کرسکتا ہے، کوئی تعلیمی مراکز کی سرپرستی کرسکتا ہے اور کوئی محض حوصلہ افزائی کرکے بھی اس کارِ خیر میں شریک ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک ماشاء اللہ، بارک اللہ، جزاک اللہ یا خدا آپ کو سلامت رکھے جیسے حوصلہ افزا کلمات بھی تعلیم و تربیت کے میدان میں کام کرنے والوں کے حوصلے کو بلند کرسکتے ہیں۔

مولانا سید احمد علی عابدی نے آخر میں اس عزم پر زور دیا کہ اجتماعی کوششوں کے ذریعہ ایسے تعلیم یافتہ، بااخلاق، باصلاحیت اور دینی شعور رکھنے والے نوجوان تیار کیے جائیں جو مستقبل میں اپنی قوم، معاشرے اور مکتب کی مؤثر خدمت کرسکیں۔ انہوں نے حاضرین سے اپیل کی کہ وہ اپنے وقت، صلاحیت اور وسائل کو نئی نسل کی تعلیم و تربیت اور قوم کے روشن مستقبل کے لئے صرف کریں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha